WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں           تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

بحرینی عوام پر مسلط آل خلیفہ حکومت نے اس ہفتے بھی الدراز کے علاقے میں مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا ہے

بحرینی ذرائع نے خبر دی ہے کہ آل خلیفہ حکومت کے کارندوں نے مسلسل اکتیسویں ہفتے منامہ کے علاقے الدراز میں ملک کے اکثریتی شیعہ مسلمانوں کو نمازجمعہ ادا کرنے سے روک دیا - الدراز میں بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی رہائشگاہ واقع ہے  - آل خلیفہ حکومت نے گذشتہ جون  کے مہینے میں آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ کردی تھی اور ان کے گھر کا محاصرہ کر رکھا ہے  - تیئیس جون سے بحرینی عوام کی ایک بڑی تعداد آیت اللہ شیخ عیسی قاسم سے اعلان یکجہتی کے لئے ان کے گھر کے باہر دھرنے پر بیٹھی ہے - اس درمیان بحرینی عوام نے جمعے اور اس سے پہلے جمعرات کو بھی ملک کے مختلف علاقوں میں حکومت مخالف مظاہرے کرکے آل خلیفہ حکومت کے ظالمانہ اقد امات کی مذمت کی - مظاہرین نے تین بحرینی نوجوانوں کو بے دردی کے ساتھ پھانسی دے دینے کے حکومتی اقد امات کی سخت الفاظ میں مذمت کی - بحرینی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ان پر آنسوگیس کے گولے داغے اور ربر کی گولیاں چلائیں

 -ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بحرین میں ممکنہ طور پر مزید دو نوجوانوں کو پھانسی دئے جانے کے حکومتی عزائم کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین انسانی حقوق کی پامالی کے تعلق سے بحرانی حالات سے دوچار ہوتا جارہا ہے - واضح رہے کہ بحرین کی نمائشی عدالت نے دسمبر دوہزار چودہ میں محمد رمضان اور حسین علی موسی نامی دونوجوانوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت پھانسی کی سزا سنائی تھی - العالم ٹیلی ویژن چینل  نے ایمنسٹنی انٹرنیشنل کے حوالے سے خبردی ہے کہ مقدمات کے دوران ان دونوں نوجوانوں کو وکیل صفائی مہیا نہیں کرائے گئے اور محمد رمضان کو جیل کے ایسے سیل میں رکھا گیا ہے جہاں اس کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے - ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بحرینی سیکورٹی اہلکار محمد رمضان نامی بحرینی نوجوان کو الیکٹریک شاک لگاتے ہیں اور شدید ایذائیں دیتے ہیں - بیان میں کہا گیا ہے کہ دوسرے بحرینی نوجوان حسین علی موسی سے بھی جبری طور پر اعترافی بیان لینے کے لئے اس کو چھت سے الٹا لٹکا دیا جاتا تھا اور بری طرح زد وکوب کیا جاتا تھا - ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سے پہلے بھی تین بحرینی شہریوں کو بے دردی کے ساتھ پھانسی دینے کے حکومتی اقدام پر شدید احتجاج کیا تھا - آل  خلیفہ حکومت نے گذشتہ اتوار کو سامی مشیمہ ، علی سنکیس اور عباس سمیع نامی تین بحرینی نوجوانوں کو پھانسی دے دی تھی -  ان تینوں نوجوانوں کو بے دردی کے ساتھ گولیوں سے بھون دیا گیا - ان تینوں بحرینی نوجوانوں پر آل خلیفہ حکومت نے مارچ دوہزار چودہ میں بحرینی پولیس پر حملہ کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا تھا - ان تینوں بحرینی نوجوانون کی پھانسی پر ملک کے اندر اور عالمی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا ہے - دوسری جانب بحرین کی نمائشی عدالت نے ملک کے  چار سیاسی کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے - بحرین کی فوجداری عدالت نے چار سیاسی کارکنوں کو عمر قید اور آٹھ بحرینی شہریوں کو تین سے چھے سال قید کی سزا سنائی ہے - انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے بحرینی عدالت کو ظالم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرینی عدالت کسی بھی طرح سے خود مختار نہیں ہے اور وہ آزادانہ طریقے سے فیصلے کرنے کی توانائی نہیں رکھتی - یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ بحرینی عدالت سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو سخت ترین سزائیں سناکر عوام کے پرامن مظاہروں کو کچلنے اور انقلابی تحریک کو دبانے میں آل خلیفہ حکومت کا پورا پورا ساتھ دے رہی ہے -  بحرینی عوام فروری دوہزار گیارہ سے آزادی، جمہوریت اور سیاسی اصلاحات کے حق میں پر امن تحریک چلا رہے ہیں جس کے دوران آل خلیفہ حکومت سیکڑوں عام شہریوں کو شہید اور زخمی کرچکی ہے جبکہ بڑی تعداد میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کو اس نے جیل میں ڈال دیا ہے -