WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں           تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

علامہ سید ساجد علی نقوی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے بانیوں میں سے ہیں

ترجمان شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جیو گروپ کے کذاب صحافی سلیم صافی کے بیان کی مذمت

 

Image may contain: 11 people

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سکریٹری اطلاعات زاہد علی اخونزادہ نے ایک میڈیا گروپ کی جانب سے تحریک جعفریہ پاکستان کے عسکری ونگ کے پروپگنڈے کو یکسر مسترد کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک گمراہ کن پروپگنڈہ اور اور ایک صحآفی کی ذہنی عکاسی کا غماز قرار دیا ہےمرکزی سکریٹری اطلاعات نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جیو گروپ کے صحافی سلیم صافی کی جانب سے تحریک جعفریہ پاکستان کے ساتھ ایک عسکری ونگ کے ساتھ وابستگی اور قائد ملت جعفریہ پاکستان کو اس کی سرپرستی کرنے کی ہرزہ سرائی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ گمراہ کن پروپگنڈہ اور پلانٹڈ بیان مذکورہ صحافی کےماضی پر مبنی ذہنی اختراع کا غماز ہے انہوں نے مزید کہا کہ علامہ سید ساجد علی نقوی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے بانیوں میں سے ہیں جنہوں نے ہمیشہ فرقہ واریت کو نہ صرف برملا مسترد کیا ہے بلکہ ہرقسم کی عسکری کاروائی کو ناجائز قرار دیا ہے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے متحدہ مجلس اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی بنیاد ڈال کر اتحاد امت کا عظیم فلسفہ دنیا کے سامنے متعارف کروایا  پاکستان کی عدالت عظمی نے بھی تحریک جعفریہ پاکستان کے خلاف عدم ثبوت کے باعث اس کی کالعدمی  کو ختم کرنے کا فیصلہ صادر کرچکی ہے مگر افسوس کہ ایک میڈیا گروپ پر ان کے مخصوص فکر کے حامل صحآفی سلی صافی ان تمام حقائق سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنی ذہنی اختراع کے مطابق ٹی وی پروگرامز میں تحریک جعفریہ پاکسان اور قائد ملت جعفریہ پاکستان کے خلاف ہرزپ سرائی کے مرتکب ہورہے ہیں جو یقینا قابل مذمت ہے

11 جنوری 2017 ء جیو نیوز کا پروگرام رپورٹ کارڈ ۔۔۔اور کذاب منکر حقیقت سلیم صافی کا تکفیریت کا دفاع11 جنوری 2017 ء کو جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں میزبان عائشہ بخش نے جب وزیر داخلہ کے سینٹ میں اس بیان کہ دہشت گرد تنظیموں کا کالعدم فرقہ وارانہ گروہوں سے موازنہ صحیح نہیں کے جواب میں ملک کے اہم صحافیوں سے ان کی آرا ء طلب کی تو بدقسمتی سے ان تجزیوں اور تبصروں میں شریک ایک مخصوص فکر کے حامل تنگ نظر سوچ کے مالک تعصب کی عینک لگانے والے تکفیری گروہ کی آوازصحیح و غلط کی تمیز سے عاری اور ماضی میں بھی اختراع پردازیوں سے کام لینے والے بلکہ ملک میں انتشار و افتراق فتنہ و فساد بدامنی و انارکی ایجاد کرنی والے اور مارو قتل کروکے ایجنڈے پر عمل پیرا منفی قوتوں کے ترجمان جھوٹے کذاب اور دہشت گردوں کے میڈیا کوارڈی نیٹر خلاف واقع باتوں کے عادی شخص کا بے سرو پا تبصرہ بھی پروگرام کے آخر میں شامل تھا۔
یہ بے بنیاد تبصرہ بھی موصوف کے گذشتہ ماہ جرگہ پروگرام میں ان کی جھوٹی او ربے بنیاد باتوں کے گرد گھومتی فرضی کہانی کا ہی حصہ تھا۔پاکستان کے تمام مسلمہ اسلامی مکاتب فکر اور مسالک جن میں بریلوی اہل تشیع دیوبندی اہل حدیث ودیگر مکتب فکر شامل ہیں ان کے ماضی اور حال کے قائدین اور رہنماؤں میں علامہ امام شاہ احمد نورانی قاضی حسین احمد مولانا فضل الرحمن علامہ ساجد نقوی مولانا ابو الخیر زبیر سراج الحق مولانا سمیع الحق مولاناراغب نعیمی ساجد میر کی اکثریت پہلے برصغیر پاک و ہند کے تاریخی اتحاد متحدہ مجلس عمل پاکستان میں ایک ساتھ بیٹھے دکھائی دیئے اور اب ملی یکجہتی کونسل پاکستان میں جو 28 کے قریب مذہبی جماعتو ں کا اتحاد ہے شامل ہیں۔جبکہ ملک میں انارکی انتشار فتنہ و فساد فرقہ وارانہ تشدد اور قتل و غارتگری کے بانی و پرچارک گروہ کے مسترد کئے جانے کے بعد موصوف اپنی خفت مٹانے اور کھسیانی بلی کھمبے نوچے کے مصداق اس قسم کے منفی حربے استعمال کررہے ہیں۔
یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی گذشتہ 26 سال سے اس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اتحاد و وحدت کے فروغ اور امت مسلمہ کی سرفرازی و سربلندی کے لئے شب و روز کوشاں ہیں بلکہ ملک سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کے نزدیک امت مسلمہ کے مابین اتحاد و وحدت ایجاد کرنے کی سعی و کوشش کرنا قرآنی و نبوی فریضہ اور ہمیں اس بات پہ فخر ہے کہ ہم ملک میں اتحاد و وحدت کے فروغ کے لئے تشکیل پانے والے مختلف اتحاد اور فورمز کے بانی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف مسالک کے مابین ضابطہ ہائے اخلاق پر دستخط ہوں یا اخوت و اتحاد کی خاطر بننے والے اتحاد امت کے پلیٹ فارمز ہوں۔ ان کی کوششیں بنیادی اور اساسی نوعیت کی رہی ہیں جن کا اعتراف دیگر تمام مسالک کے قائدین اور جید رہنماؤں نے بھی کیا۔
علامہ ساجد نقوی نہ صرف اسلامی دنیا میں ایک منفر د اور ممتاز مقام رکھتے ہیں بلکہ وطن عزیز سے فرقہ وارایت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں بھی انہوں نے بنیادی رول ادا کیا ہے ۔ ان کا بڑے سے بڑا مخالف اور ناقد بھی آج تک یہ ثابت نہیں کرسکا کہ کراچی کے ساحل سے لے تک سیاچین تک اور ملک کے دیگر حصوں میں ان کی عمومی تقاریر بیانات اور گفتگو ہوں یا ان کی اپنی کمیونٹی کے اجتماعات میں ان کے خطابات ہوں کہیں پر بھی کوئی ایک جملہ ایسا نہ ملے گا جس سے کسی دوسرے مکتب یا مسلک کے عقائد و نظریات یا شخصیات کی دل آزاری اور توہین کی بو تک آتی ہو۔
اس سے پہلے بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ ہم اس ملک میں دہشت گردی سے متاثر ضرور ہیں لیکن کبھی دہشت گردی میں حصہ دار نہیں رہے۔ہماراماضی و حال ایک شفاف آئینہ ہے۔ ہمارا کبھی بھی کوئی مسلح عسکری ونگ نہیں رہا اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں۔ ہم ایک ایک دن میں سینکڑوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کے لاشے اٹھا کر بھی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہوئے عوام کو صبرو
تحمل کی تلقین کرتے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے تکفیری گروہ کی جانب سے غلیظ نعروں مارو قتل کرو کے فتوؤں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا وہ بازار گرم کیا گیا جس کی زد میں حساس ادارے سرکاری دفاتر مساجد امام بارگاہیں بزرگان دین کے مزارات سکولز چرچز اور عوامی مقامات آئے اور یوں ارض پاک کے گلی کوچوں کو بے گناہوں کے خون میں نہلا دیاگیا۔

لہذا قرآن مجید کے احکامات کی روشنی میں افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستوون کیا مومن اور فاسق برابر ہوسکتے ہیں۔ ہرگز نہیں