WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں           تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

عالمی استمار کی غلام بحرین کی ظالم و جابر امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت نے تین شیعہ جوانوں کو پھانسی دیدی

مشتعل عوام کا شدید احتجاج ، مظاہرین اور آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں

فعالان سياسي بحرين

بحرین کی ظالم و جابر اور امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت نے جمہوریت کا مطالبہ کرنے والے تین شیعہ جوانوں کو پھانسی دیدی ہے۔ بحرین کے تین شیعہ جوانوں کی پھانسی کے بعد بحرینی عوام نے وسیع پیمانے پرآل خلیفہ کی ظالم و جابر حکومت کے خلاف  احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ بحرین کے مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی گروہوں نے شیعہ مسلمانوں کے خلاف آل خلیفہ کے بہیمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے بحرین میں جمہوریت کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ بحرینی عوام ملک میں جمہوریت اور انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جبکہ بحرینی حکومت امریکہ اور سعودی عرب کے تعاون سے بحرینی عوام کے جمہوری  مطالبے کو کچلنے کی مذموم تلاش و کوشش کررہی ہے۔

بحرین کی ظالم و جابر آل خلیفہ حکومت نے بحرین کے تین شیعہ جوانوں کو پھانسی دے دی ہے اور ان تین شہداء کے جنازوں کو ان کے اہلخانہ کی سپرد کئے بغیر ہی ماحوز قبرستان میں دفن کردیا ہے بحرین میں ظلم کی انتہا ہوگئی۔

اتوار کے روز بحرین کے مختلف علاقوں خاص طور سے الدراز کے علاقے میں بحرینی عوام اور آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جہاں سیکورٹی فورسز نے بحرینی عوام کے خلاف چھروں والی بندوقوں اور زہریلی گیس کا استعمال کیا۔

بحرین کے جنوبی علاقے السہلا میں بھی مشتعل عوام، تین نوجوانوں کو سزائے دیئے جانے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور آل خلیفہ حکومت کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی۔ نویدرات میں بھی شدید مظاہرے کئے گئے ہیں۔

دوسری جانب بحرین کے انسانی حقوق کے مرکز کے سربراہ نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ بحرینی نوجوانوں کو سزائے موت دیئے جانے کی وجہ سے بحرین کا بحران اب مزید سخت اور پیچیدہ مراحل میں داخل ہو جائے گا۔

یوسف ربیع نے کہا کہ بحرین کے تمام حالات کی ذمہ داری، اب بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت کا فیصلہ کرنے والوں پر عائد ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ بحرینی نوجوانوں کو سزائے موت دیئے جانے کے فیصلے سے بحران کے سیاسی حل کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ تین مارچ دو ہزار چودہ کو الدیہ کے علاقے میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کے مشتبہ الزام میں بحرین کے تین نوجوانوں سامی مشیمہ، علی سنکیس اور عباس سمیع کو اتوار کے روز سزائے موت دیدی گئی۔