WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں           تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روزہ داروں کے لئے خوراک کی تجویزات

 

The Grand Ayatullah Al Sheikh Hafiz Bashir Hussain Al Najafi Dama Zillahu's photo.

ماہ مبارك ميں غذائيت

صحت کی مشکلات، ان کی علتیں اور علاج

کبج

کبج بواسیر،مقعد میں زخم ، درد اور بدہضمی کا باعث بن سکتا ہے۔

علت: کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ کا استعمال اور مایعات اور پانی کا استعمال کم۔

علاج: کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ کا استعمال کم کریں، پانی زیادہ پیئیں۔ براون اور چوکر والے آٹے کی روٹی کھائیں۔

بدہضمی اور گیس

علت: پرخوری، تلی اور چربی دار چیزوں کا زیادہ استعمال، مرچ و مسالہ والی غذاوں کا استعمال، یا ان چیزوں کا استعمال جو گیس بناتی ہیں جیسے انڈا،آلو، گوبھی، لوبیا، پھلیاں، مسور کی دال اور کولڈ ڈرینک۔

علاج: پرخوری نہ کریں، پھلوں کا رس اور پانی زیادہ استعمال کریں، تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔

کمزوری [ بی پی لو]

علامتیں: زیادہ پسینہ، کمزوری، تھکاوٹ، سر چکرانہ مخصوصا کھڑے ہوتے وقت، رنگ اڑ جانا اور ضعف اور ناتوانی کا احساس کرنا۔

علت: مایعات کا استعمال کم اور بدن سے نمک کی کمی۔

علاج: گرم جگہوں پر نہ جائیں۔ نمک اور مایعات کے استعمال کو زیادہ کریں۔

سر درد

علت: کیفین اور تنباکو کا استعمال نہ کرنا، دن میں کام زیادہ کرنا، کم سونا، بھوک کہ جو مخصوصا دن کے آخری وقت میں لاحق ہوتی ہے۔ وہ سر درد جو بی پی لو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ممکن ہے شدت پکڑ جائے اور افطار سے پہلے الٹی کی حالت کو ایجاد کرے۔

علاج: ماہ رمضان سے دو ہفتہ پہلے کیفین یا تنباکو کا استعمال کرنا کم کر دیں۔ اور اس کی جگہ سبز چائے کا استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہ رمضان میں اس طریقہ سے پروگرامینگ کریں کہ کافی مقدار تک نیند کر سکیں۔

شوگر کی کمی

علامتیں: ضعف، سرچکرانہ، تھکاوٹ کا احساس، پسینہ آنا، بدن کانپنا، دل دھڑکنا، کسی کام کو انجام دینے کے لیے بدن کا ساتھ نہ دینا۔

علامتیں: وہ لوگ جو مستقل طور پر شوگر کی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں اگر سحری میں شکر کا زیادہ استعمال کریں گے تو دن میں بدن زیادہ مقدار میں انسولین ایجاد کرے گا اور شوگر کی کمی کا باعث بنے گا۔

علاج: سحر میں کھانا کھانا، مایعات کا حد سے زیادہ استعمال نہ کرنا اور اسی طرح شوگر والی چیزوں کا استعمال بھی کم کرنا۔

معدہ میں زخم، دل میں سوزش

ماہ رمضان میں اسیڈ والی چیزوں کا استعمال معدہ میں زخم ہونے کا باعث بنتا ہے مرچ مسالہ والی غذائیں، کولڈ ڈرینک وغیرہ زخموں میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔

علاج: خالی معدہ ہونے کی صورت میں اسیڈ والی چیزوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ اسی طرح تلی بھنی یا مرچ مسالہ والی چیزوں سے پر۔

جوڑوں کا درد

علت: ماہ مبارک رمضان میں معمولا نمازیں زیادہ پڑھی جاتی ہیں جن کی وجہ سے گھٹنوں پر زیادہ دباو پڑتا ہے سن رسیدہ افراد یا جوڑوں کے درد والے افراد میں درد کے اضافہ، ورم اور ناآرامی کا باعث بنتا ہے۔

علاج: وزن کو کم کریں تاکہ گھٹنے زیادہ وزن اٹھانے پر مجبور نہ ہوں۔ ماہ رمضان سے پہلے اٹھنے بیٹھنے کی ورزش کریں تاکہ بدن ماہ مبارک کے لیے پہلے سے تیار ہو جائے اور نمازوں کے دوران درد اور ناآرامی کا احساس نہ ہو۔


ماہ رمضان میں صحت کے لیے مشورے

ماہ مبارک رمضان میں ہماری غذا پہلے کی نسبت زیادہ تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور حتی الامکان سادہ ہونا چاہیے۔ اسی طریقے سے غذائی نظام اس طرح منظم کیا جانا چاہیے کہ طبیعی وزن پر کوئی زیادہ اثر نہ پڑے۔

دیر ہضم غذائیں عبارت ہیں: حبوبات، اناج جیسے جو، گندم، لوبیا، دالیں، چاول کہ جنہیں " کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ" کہتے ہیں۔

غذا کا متعادل ہونا ضروری ہے۔ یعنی ہر نوع غذا کو استعمال کیا جائے جیسے پھل، سبزیاں، گوشت، مرغ ، مچھلی، روٹی، دودھ، اور دیگر دودھ سے بنی چیزیں۔

تلی ہوئی چیزوں کو بہت کم استعمال کیا جائے۔ اس لیے کہ یہ ہضم نہ ہونے، معدہ میں سوزش پیدا ہونے اور وزن میں خلل ایجاد ہونے کا سبب بنتی ہیں۔

کن چیزوں سے پرہیز کریں؟

۱: تلی ہوئی اور چربی دار غذاوں سے

۲: زیادہ میٹھی چیزوں سے

۳: سحر کے وقت زیادہ کھانا کھانے سے

۴: سحر کے وقت زیادہ چائے پینے سے۔ چائے زیادہ پیشاب کا باعث بنتی ہے اور زیادہ پیشاب بدن سے نمک کو خارج کر دیتا ہے۔

۵: سیگرٹ: اگر سیگرٹ کو ایک بار چھوڑنا آپ کے لیے سخت ہے تو ماہ رمضان شروع ہونے سے ایک دو ہفتہ پہلے اس کام کی مشق کریں۔

کن غذاوں کا استعمال کریں؟

۱: سحر کے وقت کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ والی غذاوں کا استعمال کرنا مفید ہے اس لیے کہ یہ دیر ہضم ہوتی ہیں۔

۲: حلیم کہ جو پروٹین رکھنے والی ایک بہترین غذا ہے اور دیر سے ہضم ہوتی ہے سحر کے وقت اس کا استعمال کرنا مفید ہے۔

۳:خرما کہ جس میں شوگر ، کاربوہائیڈریت، پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتے ہیں کا سحر میں استعمال کرنا مفید ہے۔

۴:بادام اور کیلا بھی کافی حد تک مفید ہیں

۵: زیادہ پانی یا مایعات کا استعمال افطار سے سحر تک فاصلہ کے ساتھ استعمال کرنا دن میں بدن کی ضرورت کو پورا کر دیتا ہے۔


روزہ داروں کے لیے خوراکی تجویزات

اگر چہ روزہ دار کے لیے روزہ کے ظاہری فوائد اور جسم پر اثر انداز ہونے والے روزہ کے ظاہری آثار اس کا اصلی مقصد نہیں ہوتے، لیکن چوں کہ روزہ اسی بدن کے ذریعے ہی رکھا جاتا ہے لامحالہ اس پر روزہ رکھنے سے کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور روایات کے اندر بھی اس نکتہ پر تاکید کی گئی ہے کہ روزہ کے معنوی آثار کے علاوہ کچھ مادی آثار بھی پائے جاتے ہیں جو انسان کے جسم کی سلامتی پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ روزہ دار اسی صورت میں جسمی اور روحی سلامتی کو حاصل کر پائے گا جب اس کے اصول کی رعایت کرےگا۔ مثال کے طور پر روزہ جسم کے وزن کو کم کرنے، بلڈ پریشر کے لو ہونے اور بدن میں سستی اور کمزوری کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برخلاف بعض لوگوں میں وزن کے اضافہ ہونے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ لیکن اگر افطاری اور سحری میں غذا اور خوراک کے نظام میں اعتدال سے کام لیا جائے تو جسم کو حد اعتدال میں منٹین رکھا جا سکتا ہے۔ درج ذیل تجویزات اس سلسلے میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں:

افطار کے لیے تجویزات

۱: بدن کی زیادہ انرجی سحری کھانے سے پورا ہونا چاہیے لہذا افطار میں ہلکا پھلکا استعمال کیا جائے تاکہ معدہ بھاری نہ ہو۔

۲: افطار میں کھانا ہلکا پھلکا اور مقوی ہونا چاہیے جو جلدی قابل ہضم ہو۔ جیسے خرما، کھجور، دودھ، چائے، وغیرہ۔

۳: بہتر ہے کہ چائے اور خرما سے افطار کیا جائے اور حتی المقدور افطار میں پانی پینے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے کہ افطار میں پانی پینا بے حالی، کمزوری اور معدہ میں درد کا باعث بنتا ہے۔

۴: افطار کے وقت مایعات زیادہ استعمال نہ کئے جائیں۔ اس لیے کہ مایعات اس وقت بد ہضمی کا سبب بن سکتے ہیں۔

۵: سحری اور افطار میں پرچرب غذائیں کھانے سے پرہیز کیا جائے۔

سحری کے لیے تجویزات

۱: اس بات کو نہ بھولیے کہ سحری میں پرخوری نہ صرف آدھے دن کے بعد بھوک کے احساس کو کم نہیں کرتی بلکہ دن کے آغاز میں ہی معدہ پر شدید بوجھ ڈالتی ہے اور نظام ہاضمہ کو مختل کرتی ہے جس کے نتیجہ میں بد ہضمی، معدہ کا درد اور گیس کی بیماری ظاہر ہوتی ہے۔

۲: ماہ رمضان میں کوشش کریں رات کو جلدی سو جائے تاکہ آذان صبح سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اٹھیں تاکہ بدن کا نظام ہاضمہ صحیح کام کرے نیند کی وجہ سے اس میں خلل پیدا نہ ہو اور آرام و سکون کے ساتھ مناسب مقدار میں سحری کھا سکیں تاکہ ہضم کرنے میں آسانی ہو۔

۳: سحری کے لیے نہ اٹھنا بہت بڑی غلطی ہے معدہ کو حد سے زیادہ خالی رکھنا اس میں درد کا سبب بنتا ہے بدن سے پروٹین جل جاتے ہیں اور بدن میں کمزوری اور سستی چھا جاتی ہے۔

۴: سحر میں پروٹین والی غذاوں کو استعمال کریں جیسے انڈا، اناج، دودھ سے بنی چیزیں اور گوشت، اور پانی پینے کی جگہ میوں کے رس استعمال کئے جائیں۔

۵: سحری میں مایعات میں سے اگر ایک گلاس جوس اور ایک گلاس شہد کا شربت پی لیا جائے تو نہایت مفید ثابت ہو گا۔

۶: سحری میں ضروری ہے کہ متنوع غذائیں استعمال کی جائیں۔ یہ چیز نوجوانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک طرح کی غذا کا استعمال نوجوانوں کو سحری کھانے سے متنفر کرتا ہے۔

۷: زیادہ نمک کھانے سے پرہیز کریں اس لیے کہ زیادہ نمک مایعات کو بدن سے دور کرتاہے اور دن میں پیاس لگنے کا سبب بنتا ہے۔ ایک معمولی کھانا کھانے سے کافی حد تک نمک آپ کے بدن میں پہنچ جاتا ہے اس لئے زیادہ نمک استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

روزہ داروں کے لیے کچھ دیگر تجویزات

۱: سحری اور افطار کے بعد کے اوقات طالب علموں کے مطالعہ کے لیے مناسب وقت ہے۔

۲: ورزش کاروں کو ماہ رمضان میں عام لوگوں کی نسبت زیادہ پروٹین اور شوگر کی ضرورت ہے۔ لہذا افطار کے تین گھنٹے بعد ورزش کو شروع کیا جائے تا کہ استعمال کی گئی خوراک ٹھیک طریقے سے ہضم ہو چکی ہو۔ کھانا کھانے اور ورزش کرنے کے درمیان فاصلہ ہونا چاہیے تاکہ خون کا جریان مکمل طریقے سے بدن کی تمام رگوں میں ہو سکے۔

۳: ماہ رمضان میں ورزش ہلکی پھلکی ہونا چاہیے اس لیے کہ ورزش کے دوران بدن کافی مقدار میں نمک اور پانی کو خارج کر دیتا ہے جس کی وجہ سے بدن میں شدید کمزوری کا احساس ہو سکتا ہے۔ ورزش کاروں کو چاہیے کہ سحر تک کافی مقدار میں مایعات استعمال کریں تاکہ ان کے بدن میں پانی کی ضرورت پورا ہو سکے۔

۴: خرما، سوپ، سبزیجات، اور دودھ افطار میں ورزشکاروں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔

۵: اگر ورزش کار افطار کے بعد سخت ورزش یا مسابقہ وغیرہ کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے افطار میں گوشت، انڈے کی زردی اور مچھلی کا استعمال کرنا چاہیے زیادہ مایعات کا استعمال بھی ورزش سے پہلے مناسب نہیں ہے۔

۶: ورزش کاروں میں پروٹین سے حاصل شدہ انرجی ۱۵ سے ۲۰ در صد ہونا چاہیے اس سے زیادہ پروٹین مناسب نہیں ہیں اس لیے کہ خون میں زائد مواد کے پیدا ہونے اور ورزش کے دوران تھکاوٹ کے احساس کا سبب بنتا ہے۔