WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں              تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دہشت گردی کی لہر پھیلنے کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ دنیا اس وقت سعودیوں کی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہی ہے۔

اس امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے وہابیت کی ترویج کے لیے بہت بڑی رقم خرچ کی ہے؛ یہ ایسی سوچ ہے کہ جو آج داعش سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی عرب نے امریکی سیاستدانوں کو ناامید اور مایوس کر دیا ہے اس لیے کہ واشنگٹن کی جانب سے ریاض کی فوجی مدد کے باوجود آل سعود کے حکام وہابی سوچ کو فروغ دے کر داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لائے ہیں اور گیارہ ستمبر کے واقعات میں بھی وہ ملوث تھے۔

دنیا کے مختلف علاقوں حتی کوسوو سمیت یورپ میں وہابی - سعودی مدارس کا قیام کہ جو نوجوانوں کے شام اور عراق میں داعش میں شامل ہونے کے ایک مرکز میں تبدیل ہو گئے ہیں، دنیا کے مختلف علاقوں میں وہابی فکر و سوچ کو پھیلانے، انتہاپسندی کو فروغ دینے اور دہشت گردی کی لہر یورپ کے اندر تک پہنچانے کے لیے سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔

عالمی سطح پر تشدد، انتہا پسندی اور بدامنی میں اضافہ، امریکی حمایتوں کے سائے میں وہابی سوچ کی ترویج میں سعودیوں کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ وہابی مدارس سے تربیت پانے والے دہشت گرد، کہ جنھیں طے شدہ منصوبے کے تحت اسٹریٹجک علاقوں میں سعودی عرب اوراس کے اتحادیوں کے مفادات کو آگے بڑھانے میں مدد دینا تھی، آج وہ کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور یورپ، ایشیا اور افریقہ کے مختلف شہروں حتی امریکہ کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

دہشت گرد گروہ داعش ایک وحشی اور خوف ناک گروہ ہے کہ جس کو پروان چڑھانے میں وہابی سوچ اور سعودی سرمایہ کاری نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یورپ کے مختلف شہروں سے نوجوانوں کی داعش میں شمولیت کا، سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے ساتھ گہرا اور معنی خیز تعلق ہے۔ آل سعود کے اس اقدام نے دنیا پر خوف کے سائے ڈال دیے ہیں اور دنیا والوں کو ہر لمحے دہشت گردانہ واقعات رونما ہونے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔

بہت کم لوگ پیرس اور برسلز سمیت یورپ کے اندر دہشت گردانہ حملوں کی توقع کر رہے تھے، اس لیے کہ سعودی عرب کے یورپی شریک، اس کی فوجی مدد کر کے اس کو اپنا اتحادی سمجھ رہے تھے جبکہ وہابی سوچ رکھنے والے دہشت گرد اپنے لیے کسی سرحد کے قائل نہیں ہیں۔

انتہا پسندی کو پھیلانے کی سعودی عرب کی پالیسی، عالمی امن و سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ اور دیگر ملکوں کے ساتھ تعاون کرنے میں اس ملک کی ذمہ داری اور عمل سے تضاد رکھتی ہے اور عملی طور پر سعودی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد، دنیا کے مختلف علاقوں میں تشدد، بدامنی اور دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کا سبب ہیں۔

سعودی عرب ایک ایسے وقت میں عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جب وہ کھلم کھلا وہابی سوچ کو پھیلانے پر زور دیتا ہے۔ اسی تناظر میں سعودی مفتی اور اس ملک کی فتوی کمیٹی کے رکن شیخ صالح الفوزان نے حال ہی میں وہابی فکر و سوچ کو دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آل سعود خاندان کہ جو اپنے سیاسی جواز کو وہابی مفتیوں سے وابستہ سمجھتا ہے، عالمی امن و سلامتی کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ سمجھتا ہے اور اسی بنا پر آج دنیا والے داعشی دہشت گردی اور تشدد کی شکل میں سعودیوں کی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں۔