WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں             تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

آل سعود کی عدلیہ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے اس ملک کے مزید کئی شہریوں کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے-

سعودی عرب کی عدلیہ نے بدھ کو اپنے ایک فیصلے میں جنوبی سعودی عرب کے شیعہ نشین علاقے قطیف کے چودہ شہریوں کو دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے بے بنیاد الزام میں سزائے موت سنائی ہے-

سعودی عرب کی عدلیہ نے ان چودہ افراد کو سزائے موت سنانے کے ساتھ ہی نو افراد کو قید کی سزا دی  ہے-

سعودی عرب کی جانب سے ان چودہ افراد پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ایسی حالت میں عاید کیا گیا ہے کہ آل سعود حکومت عراق اور شام میں دہشت گرد گروہوں کی اصلی حامی ہے-

سعودی عرب نے جنوری دوہزار پندرہ میں بھی اپنے سینتالیس شہریوں منجملہ اس ملک کے معروف اور اہم شیعہ رہنما آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر اور تین دیگر شیعہ مسلمانوں کو سزائے موت دی تھی - ہیومن رایٹس واچ کے مطابق سعودی عرب نے گذشتہ برس سب سے زیادہ سزائے موت دی اور صرف ایک سال میں کم سے کم ایک سو اٹھاون افراد کے سر قلم کئے-

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے سرگرم سیاسی شخصیتوں اور رہنماؤں تک کے خلاف قرون وسطی جیسے فیصلے سنائے جانے پر اقوام متحدہ بھی خاموش نہ رہ سکی اور اس نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے- سعودی عرب کے حکام اپنے مخالفین کی آواز دبانے اور انھیں راستے سے ہٹانے کی غرض سے ان کی زندگی کا ہی خاتمہ کر دیتے ہیں اور یہ پالیسی انھوں نے اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھی ہے- سعودی عرب کے حکام مخالفین کو سزائے موت دے کر عوام کے اندر خوف و وحشت اور گھٹن کا ماحول پیدا کرکے اپنی حکومت کی بقا کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں-

سعودی عرب میں انتخابات، مختلف سیاسی پارٹیوں کا وجود اور پریس کی آزادی جیسی جمہوریت کی کوئی بھی علامت نہیں پائی جاتی -

سعودی عرب کی سیاسی شخصیتوں نے اعلان کیا ہے کہ آل سعود کے اقدامات کے نتیجے میں سعودی عرب کی خوفناک جیلوں میں تیس ہزار سے زیادہ سیاسی قیدی موجود ہیں اور سعودی عرب اپنے شہریوں کے لئے جیل میں تبدیل ہو گیا ہے-

آل سعود حکومت نے تقریبا ڈھائی سال پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے ایک قانون پاس کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دیں اور وہ سعودی عرب کے عوام کے خلاف اپنی ظالمانہ روش کا بھی قانونی جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے-

سعودی عرب میں آل سعود کی ظالمانہ اور استبدادی پالیسیوں پر رائے عامہ کے ردعمل اور علاقے میں اس حکومت کی جانب سے جنگ بھڑکانے اور مداخلت کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کے حکام اپنی تشدد پسند پالیسیوں کا جواز پیش کرنے میں ناکام ہیں -

سعودی عرب کے حکام کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں اور ملک کا انتظام چلانے میں آل سعود کی جانب سے جمہوری اصولوں کی شدید مخالفت اس بات کا باعث بنی ہے کہ رائے عامہ کے نزدیک سعودی عرب ، سیاسی اور سماجی لحاظ سے ایک قدامت پرست ملک کے طور پر پہچـانا جائے کہ جس کا نظام حکومت قرون وسطی کی روش پر چلایا جا رہا ہے-

اس سب کے باوجود ابھی کچھ پہلے اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندے فیصل بن حسن طراد کو امریکہ اور برطانیہ جیسے اپنے مغربی حامیوں کی مدد سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں خود مختار ماہرین کے کمیشن کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ! اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کی رکنیت اور آل سعود حکومت کو اس کونسل میں عہدے اور ذمہ داریاں سونپے جانے سے اقوام متحدہ کے اس قانونی ادارے میں قانونی معیارات اور اصولوں کی دھجیاں اڑائے جانے اور زبردست سیاسی بازی گری کی عکاسی ہوتی ہے- بلاشبہ اس طرح کے دہرے اور کمزور رویے کا نتیجہ صرف یہ نکلا ہے کہ سعودی حکام انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کرنے کے سلسلے میں مزید گستاخ اور جری ہوگئے ہیں-