WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں           تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روزوں کے بے شمار فوائد

نسیم بندگي - دس رمضان المبارک

رمضان کے مبارک ایام کا ایک ایک لمحہ حقیقی روزہ دار کے لئے عبادت شمار ہوتا ہے۔ خداہم سب کو حقیقی روزہ داروں میں سے قرار دے آمیں ثم آمین۔

٭٭٭٭٭

روزے انسان کو زندگی کے روزمرہ امور کی قید سے نجات دلاتے ہیں۔ روزوں کے بے شمار فوائد انسان میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔ قدیم طب میں روزے کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ معروف ایرانی طبیب بو علی سینا نے اپنی کتاب قانون کا ایک باب روزے کے ساتھ بیماریوں کا علاج کرنے کے بارے میں لکھا ہے۔ امریکہ میں ڈاکٹر ہربرٹ ایم شلٹن نے ایک کتاب تحریر کی ہے جس کا موضوع ہے " روزہ تمہاری زندگی کو نجات دے سکتا ہے " اس امریکی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ روزوں کے ذریعے موٹاپے ، میگرین ، الرجی ، بلڈ پریشر اور جوڑوں کے دردوغیرہ نیز جلد کی بہت سی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے ۔ اس کتاب میں روزے کو ایسا آپریشن قرار دیا گیا ہے جو چیرنے پھارنے والے آلات استعمال کۓ بغیر ہی کیا جاتا ہے۔

 فرانس کے محقق اور فیزیالوجسٹ ڈاکٹر الکسیس کارل کا کہنا ہے کہ روزے کی حالت میں اپنے نفس پر قابو پانے کی کوشش کے ذریعے بدن کے اعمال میں توازن قائم کیا جاسکتا ہے۔ سب لوگ فطری طور پر اپنے غرائز کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان خواہشات کی مکمل طور پر تکمیل نہ ہو تو انسان زوال و انحطاط کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس لۓ انسان کو اپنے نفس پر تسلط حاصل کرنا چاہۓ۔ اس میں شک نہیں کہ ضرورت سے زیادہ سونا اور کھانا کم کھانے کی نسبت زیادہ نقصان دہ ہے اور ان امور سے اپنے آپ کو بچا کر بدن اور روح کے اعمال کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے ۔

روزہ مختلف بیماریوں کا علاج کرتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ بیماریوں کی روک تھام کرتا ہے ۔ پیمغبر اکرم ص نے فرمایا ہے کہ : " روزے رکھو تاکہ صحتمند رہو " رسول اکرم ص کے نزدیک معدہ تمام امراض کا سرچشمہ اور پرہیز سب سے اچھی دوا ہے اور روزے رکھنا آپ کے نزدیک پیپھڑوں کی صفائی اور بدن کی لطافت کا باعث ہوتا ہے۔ حضرت علی ع کے نزدیک روزے جسمانی سلامتی کا بہترین سبب ہیں ۔ روزے رکھنے سے انسان کے بدن میں موجود lymphatic glands سے poisons کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ فرسودہ اور بیمار خلیوں کی جگہ زندہ اور سالم خلۓ لے لیتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان جوانی کا احساس کرتا ہے ۔ روزہ بہت سی بیماریوں کا راستہ روک دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اور ڈاکٹر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانوں کی زندگی کے امور میں روزے کی مشق سے استفادہ کیا جانا چاہۓ۔

نفسیاتی اور اخلاقی اعتبار سے بھی روزے کے بہت سے فوائد ہیں ۔ بہت سی روایات میں انسان کی نفسیاتی سلامتی ، دل کے امراض کے خاتمے ، شہوانی طاقت کے حد اعتدال میں آنے اور افسردگی کے خاتمے کے سلسلے میں روزوں کو مؤثر کردار کا حامل قرار دیا گیا ہے ۔ محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ روزے رکھنے سے انسان کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی مختلف طرح کی باطنی صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنے سے انسان کے اندر ایسی طاقت پیدا ہوجاتی ہےکہ وہ مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتا ہے۔ ایک مہینے کے روزے اپنے رویۓ پر قابو پانے ، نفسیاتی طور پر مضبوط ہونے اور اضطراب کے مواقع پر ثابت قدم رہنے کا موجب بنتے ہیں۔ روزے قوای کو قابو میں رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ شخصیت کی نمو کے دوران ہر شخص کو ایسی قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو عارضی خواہشات کے مقابلے کے موقع پر ان پر قابو پاسکتی ہو۔

روزہ تربیت کے اسی اسلوب کی ایک بہترین مثال ہے ۔ دن بھر کھانے پینے اور دوسری لذات سے اجتناب اس بات کا موجب بنتا ہے کہ انسان ان چیزوں کے حصول کو التواء میں ڈال دے۔ اس التواء کے انسان پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس سے انسان اپنی خواہشات کو اپنے قابو میں رکھنے کی قدرت و صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ روزہ دل کو نورانی کردیتا ہے ۔ انسان روزے کی بدولت خدا تعالی سے دعا کرنے اور اس سے ہمکلام ہونے کا ذائقہ چکھتا ہے ۔ رمضان کی عبادات کے نتیجے میں انسان اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ انسان خدا تعالی اور اس کی قدرت و عظمت کی جتنی زیادہ معرفت حاصل کرتا ہے اسی قدر اس کے اندر نیک کام انجام دینے کا جذبہ شدت اختیار کرتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں ناداروں کی امداد ، انفاق، اور صلہ رحم جیسی عبادات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور معاشرے میں ایک خوشگوار روحانی ماحول قائم ہوجاتا ہے۔ خدا تعالی روزے دار کی عبادت و کوشش کو تسبیح جانتا ہے اور اس کے عمل کا ثواب بڑھا کر دیتا ہے۔

٭٭٭٭٭

  خدا تعالی نے قرآن کریم کے سورۂ مومنون کی ابتدائي آیات میں نیک سیرت انسانوں کی علامات ذکر فرمائی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے : " بے شک ان مومنین نے کامیابی حاصل کی جو نماز میں خشوع سے کام لیتے ہیں۔ جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ جو ادائے زکوٰة کا فرض انجام دینے والے ہیں۔ جو اپنے پوشیدہ اعضا کی حفاظت کرنے والے ہیں۔" کامیابی اور نجات کے معنوں میں بہت وسعت پائي جاتی ہے۔ ان میں مادی کامیابیاں بھی شامل ہیں اور معنوی کامیابیاں بھی۔ دنیوی کامیابی یہ ہےکہ انسان وقار ، عزت اور بے نیازی کے ساتھ زندگی گزارے۔ اور اخروی کامیابی یہ ہے کہ نیک اعمال کے ذریعے سعادت سے ہمکنار ہو ، بہشت میں پروردگار کی رحمت کے جوار میں جگہ پاۓ اور جنت کی ابدی نعمتوں سے بہرہ مند ہو۔ قرآن کریم نے مومنین کی صفات بیان کرتے ہوۓ ہر چیز سے قبل نماز کی تاکید کی ہے جو کہ خالق اور مخلوق کے درمیان سب سے اہم رابطہ ہے۔

 اس بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہےکہ مومنین وہ ہیں جو نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ خشوع ادب اور انکساری کی ایسی حالت کا نام ہے جو کسی عظیم ہستی یا بڑی حقیقت کے سلسلے میں انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے اور انسان کے بدن میں اس کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے اس نکتے کی جانب اشارہ کیا ہےکہ اہل ایمان کی نماز بے مقصد اور بے روح حرکات کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ نماز کے موقع پر وہ خدا تعالی کی جانب اپنی توجہ اس حد تک مرکوز کردیتے ہیں کہ غیر خدا سے جدا ہو کر خدا سے مل جاتے ہیں ۔ نماز تربیت کا عظیم ترین مکتب ہے۔ خدا تعالی کی یاد روح و جان کی بیداری اور انسان کو گناہوں سے دور رکھنے کا ذریعہ ہے ۔جب بھی یہ خوبصورت عبادت تمام آداب کے ساتھ بجا لائی جاتی ہے تو خوبیوں اور نیکیوں کی انجام دہی کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔ نمازی خدا تعالی کی عبادت کے دوران خدا تعالی سے اس طرح ہمکلام ہوتے ہیں کہ یہ حالت ان کے بدن پر طاری ہوجاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک بے کراں وجود کے سامنے ایک ذرہ اور ایک بحر بیکراں کے مقابلے میں ایک قطرہ پاتے ہیں۔

نماز کا ہر لمحہ نمازی کے لۓ خود سازی کا ایک سبق اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ شمار ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں بیان شدہ مومنین کی ایک اور صفت یہ ہے کہ وہ ہر طرح کے لغو اور عبث کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ لغو کے معنی بے مقصد، بے نتیجہ اور غیر مفید کے ہیں۔ البتہ لغو سے مراد صرف بے مقصد باتیں اور کام ہی نہیں ہیں بلکہ انسان کو خدا کی یاد سے غافل کردینے والے بے کار افکار و خیالات بھی لغو کے مصادیق میں شامل ہیں۔ نیک اور صالح انسانوں کی زندگی کے تمام امور بامقصد اور مثبت ہوتے ہیں ۔ یہ افراد نہ صرف بے مقصد کام انجام نہیں دیتے ہیں بلکہ باطل افکار کو بھی اپنے ذہن میں جگہ نہیں دیتے ہیں۔ اور قرآن کریم کے مطابق یہ افراد لغو سے اجتناب کرتے ہیں۔