WORLD SHIA NEWS

 

صفحہ اول         شہ سرخیاں         ساری خبریں           تبصرے          مضامین          ہم سے رابطہ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

رمضان المبارک، رحمت حق کے بحر بے پایاں کا ساحل

نسیم بندگی 9 رمضان

یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے اور ہم رحمت حق کے بحر بے پایاں کے ساحل پر کھڑے ہیں۔ ان ایام میں ہمارا سانس لینا بھی حق تعالی کی تسبیح ہے اور ہماری عبادات دوسرے ہر وقت سے زیادہ ان ایام میں پروردگار عالم کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں۔ رمضان کا مہینہ روح کو صیقل دینے اور اپنے آپ کو گناہوں سے دور رکھنے کا مہینہ ہے ۔ کتنے ہی زیادہ گناہ ہیں جو اس مہینے میں نابود ہو جاتے ہیں ۔ اور کتنے ہی زیادہ نقائص و عیوب ہیں جن پر خدا تعالی پردہ ڈال دیتا ہے ۔ رمضان کے ان مبارک ایام میں خدا تعالی کی رحمت پہلے سے زیادہ اپنے بندوں کے شامل حال ہوتی ہے۔ اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا تعالی کی رحمت کو محسوس کرے ۔ اور اپنے دل کو حق تعالی کی رحمت پانے کا اہل بنا دے۔ باران رحمت کا آغاز ہم رسول اکرم ص کی ایک حدیث شریف کے ساتھ کررہے ہیں۔ پیغمبراکرم ص نے روزے کی پاداش کے بارے میں فرمایا ہے :
" خدا تعالی روزہ دار کو اپنی رحمت کے قریب کردیتا ہے ۔ موت کی سختیاں اس پر آسان کردیتا ہے ۔ اسے قیامت کے دن کی بھوک اور پیاس سے محفوظ رکھتا ہے ، آگ سے نجات عطا فرماتا ہے اور جنت کی پاکیزہ نعمتوں سے سرفراز کرتا ہے۔"

اس دنیا میں انسان کو بہت سی مشکلات اور شدائد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مشکلات کے مقابلے میں انسان مختلف طرح کے رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ بعض افراد مشکلات پر قابو پالیتے ہیں اور بعض افراد پر مشکلات غلبہ پالیتی ہیں ۔ یہ افراد مشکلات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ عموما ہم لوگ مشکلات کوپسند نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ان کا تصور ہی ہمیں تشویش اور پریشانی میں مبتلاء کردیتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہےکہ مشکلات اس قدر بھی ناقابل برداشت نہیں ہوتی ہیں جس قدر ہم تصور کرتے ہیں۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہی مشکلات ہماری صلاحیتوں کے نکھار کا باعث بن جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں لامحالہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انسان مشکلات کے نتیجے میں پیدا شدہ نفسیاتی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے کیونکہ مشکلات کے بارے میں انسان کے زاویۂ نگاہ کی نوعیت مشکلات کے مقابلے کے سلسلے میں انسان کی طاقت پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے۔

مشکلات سے نمٹنے کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان مثبت نتائج کے بارے میں سوچے کہ شائد مشکلات اس کے لۓ مفید ثابت ہوں۔ جو شخص مشکلات کو مصیبت جانتا ہے وہ پریشان رہتا ہے۔ اور یہ پریشانی مشکلات کے مقابلے کے سلسلے میں اس کی طاقت میں کمی لاتی ہے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ مشکلات انسان کی زندگي میں کن مثبت اثرات کی حامل ہیں؟ واضح سی بات ہے کہ مشکلات انسان کی روح اور اس کی شخصیت کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ اور اس کی قوت برداشت میں اضافہ کرتی ہیں۔ حضرت امام علی ع انسان کی شخصیت کے استحکام پر مشکلات کے اثرات کو بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہیں:

" آگاہ رہو کہ بیابانوں میں اگنے والے درختوں کی لکڑی سخت اور نہر کے کنارے اگنے والے درختوں کی لکڑی نرم ہوتی ہے ۔ بارش کے پانی سے سیراب ہونے والے بیابانوں کے درختوں کی لکڑی جب جلائی جاتی ہے تو اس سے زیادہ شعلے بلند ہوتے ہیں اور وہ زیادہ تر تک باقی رہتی ہے "
اس فرمان میں حضرت علی ع یہ بیان کرنا چاہتےہیں کہ بیابان کے درخت چونکہ دشوار حالات میں نموپاتے ہیں اس لۓ ان میں بقاء کی صلاحیت دوسروں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

بعض اوقات خدا تعالی انسان کومختلف طرح کی مشکلات سے آزماتا ہے۔ تاکہ ان مشکلات میں اس کی صلاحیتں نکھر کر سامنے آئيں۔ مشکلات اس بات کا سبب بنتی ہیں کہ انسان مقصد تخلیق کو ، جو کہ تکامل سے عبارت ہے ، حاصل کرنے کی زیادہ کوشش کرے ۔ انسان صرف مشکلات کی بھٹی میں ہی کندن بن سکتا ہے ۔ عالم اسلام کے عظیم مفکر مرتضی مطہری مشکلات کو انسان کا تربیت کنندہ قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اس بارے میں لکھا ہے کہ خدا تعالی کی جانب سے کی جانے والی آزمائش کا مقصد انسانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نمایاں کرنا ہوتا ہے۔ خدا تعالی انسان کو مشکلات کےساتھ آزماتا ہے تاکہ انسان اپنے شایان شان کمال تک پہنچ سکے ۔ خدا تعالی انسان کو مختلف مشکلات اور شدائد سے دوچار کرتا ہے تاکہ اس کی روحانی قوت میں اضافہ ہو۔ حضرت علی ع نے اس سلسلے میں فرمایا ہےکہ خدا تعالی ہمیشہ اپنے بندوں کو مختلف طرح کی مشکلات اور ان کے سہل پسند مزاج کے منافی شدائد سے دوچار کرتا ہے تاکہ غرور و تکبر ان کے دلوں سے باہر نکل جاۓ اور ان کے دلوں کو خدا تعالی کی عبادت سے سکون ملے۔ یہ بندوں پر خدا تعالی کی رحمت کے دروازے کھلنے کا ایک ذریعہ ہے۔ "
ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہےکہ مشکلات انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کے نکھار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور انسان زیادہ سے زیادہ تجربات حاصل کرنے کے لۓ ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔

٭٭٭٭٭

ابوعمر زجاجی ایک نیک انسان تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے میرے لۓ ایک گھر میراث میں چھوڑا ۔ میں نے وہ گھر پچاس دینار میں فروخت کردیا ۔ اور حج کرنے کے لۓ چل پڑا۔ راستے میں نینوا کے مقام پر ایک ڈاکو آگيا اور کہنے لگاکہ تمہارے پاس کیا کچھ ہے۔ ؟ میں نے دل ہی دل میں کہا کہ کوئي چیز بھی سچائي سے بہتر نہیں ہے ۔ اس لۓ میں نے فیصلہ کیا کہ اس ڈاکو کو حقیقت سے آگاہ کردیتا ہوں ۔ میں نے کہاکہ میرے پاس ایک تھیلی ہے جس میں پچاس دینار ہیں۔ اور اس رقم سے میں حج پر جارہا ہوں۔ ڈاکو نے کہاکہ وہ تھیلی مجھے دے دو۔ میں نے تھیلی اس ڈاکو کے حوالے کردی۔ ڈاکو نے وہ دینار گنے ۔اب اس کی نظریں زمین میں گڑی ہوئي تھیں اور اس نے وہ سارے دینار مجھے لوٹا دیۓ ۔ میں نے ڈاکو سے پوچھاکہ تو نے یہ دینار مجھے واپس کیوں لوٹاۓ؟ ڈاکو نے جواب دیا کہ میں تو تمہیں لوٹنے کے ارادے سے ہی آیا تھا لیکن تمہاری سچائی سے متاثر ہوگیا ہوں ۔ ابوعمر زجاجی مزید کہتے ہیں کہ ڈاکو کے چہرے سے ندامت ظاہر ہورہی تھی۔ اور یہ بات واضح تھی کہ ڈاکو اپنے کۓ پر پشیمان تھا اور وہ اب توبہ کرنا چاہتا تھا۔ میری سچائی نے اسے اس حد تک پشیمان کردیا تھا کہ وہ اپنی سواری سے نیچے اتر آیا اور پھر میرے اصرار کرنے کے بعد دوبارہ سوار ہوا۔ ڈاکو نے میرے ساتھ حج کرنے کا فیصلہ کیا ، اس نے اپنے مال کو حرام سے پاک کیا ، اس نے احرام باندھا اور میری راہنمائی میں حج ادا کیا۔

صالحین کی ایک صفت انکساری ہے ۔ خدا تعالی نے سورۂ فرقان کی آیت نمبر تریسٹھ میں ارشاد فرمایا ہے کہ " رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر چلتے ہوۓ تکبر نہیں کرتے ۔ "  اس آیت میں ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ انکساری کو خدا تعالی کی عبادت کی ایک علامت قرار دیا گيا ہے ۔ صالحین خدا تعالی کی عظمت اور اس کے جلال پر پکا ایمان رکھتے ہیں، اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک ناچیز ذرہ جانتے ہیں اور ہر حالت میں خود کو حق تعالی کی قدرت لایزال کے تحت محسوس کرتے ہیں۔اس خوش آئند احساس کے سبب وہ خدا تعالی کی بارگاہ میں خضوع و خشوع کرتے ہیں۔ جو شخص خدا تعالی کی بارگاہ میں خضوع کی لذت سے آشنا ہوجاتاہے وہ خدا تعالی کی مخلوق کے ساتھ بھی انکساری سے کام لیتا ہے ۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ رسول اکرم ص نے ترویج اسلام اور لوگوں کو دائرۂ اسلام میں داخل کرنے میں جو زبردست کامیابی حاصل کی اس کا ایک راز آپ کی انکساری سے ہی عبارت ہے ۔ لوگ منکسر المزاج افراد سے محبت کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کی ہم نشینی دلوں میں محبت کے بیج بو دیتی ہے۔ جو شخص خدا تعالی کی رضا کے لۓ لوگوں کے ساتھ انکساری سے پیش آتا ہے خدا تعالی لوگوں میں اس کے مقام کو بلند کردیتا ہے ۔ پیغمبر اکرم ص نے اس سلسلے میں فرمایا ہے کہ  " انکساری سے کام لو تاکہ خدا تعالی تمہارے مرتبے کو بلند کردے۔"


رسول اکرم ص کی سیرت طیبہ میں آیا ہےکہ آپ بنفس نفیس اونٹ کو باندھا کرتے تھے ، بھیڑوں کا دودھ خود دھویا کرتے ، اپنے لباس کو خود رفو لگاتے ۔ آپ اس بات کو ہر گز پسند نہ فرماتے کہ کوئي آپ کے احترام میں کھڑا ہو۔ آپ کبھی بھی محفل میں سب سے آگے نہ بیٹھتے ۔ یہ تمام امور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آپ خدا تعالی کے مخلص بندے تھے۔ آپ نے خداتعالی کا بندہ ہونے پر فخر کرتے ہوۓ فرمایا : اے لوگو خدا نے مجھے رسول بنانے سے پہلے اپنا بندہ بنایا ہے "  انکساری ایک گرانقدر صفت ہے جس کا سرچشمہ پاکیزہ ضمیر ہوتا ہے ۔ اور اس کے آثار انسان کے کردار میں نمایاں ہوتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں : انکساری ہر نیک اور اچھے کام کا سرچشمہ ہے ۔ جو شخص خدا تعالی کے لۓ انکساری کرتا ہے خدا اسے بہت سے بندوں پر برتری عطا فرماتا ہے ۔